29 جنوری 2013 - 20:30

افغانستان کے وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ابنا: اس ملاقات میں جنرل اشفاق پرویز کیانی نے افغان وزیر دفاع کو انسداد دہشت گردی اور افغان سکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تعاون کی پیشکش کی۔ پاکستانی وزارت دفاع کے اعلان کے مطابق اس ملاقات میں دو طرفہ مسائل، تربیت کے شعبے میں دونوں ملکوں کی افواج کے پائیدار تعلقات اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے اور موجودہ سکیورٹی تعاون کو مزید بڑھانے کے مقصد سے سرحدی کارروائیوں کے بارے میں بات چیت کی گئي۔پاکستان کی طرف سے افغانستان کو دی جانے پیشکش اور تجاویز میں سے ایک افغان فوج کی تربیت ہے۔ اگرچہ کہا جاتا ہےکہ طالبان کے ساتھ پاکستانی حکومت کے قریبی تعلقات کی وجہ سے افغان حکومت اس پیشکش کو قبول کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔افغان وزیر دفاع ایک اعلی سطحی فوجی وفد کے ہمراہ پیر کے روز پانچ روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں ان کے دورے کا مقصد دو ہزار چودہ کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کے بارے میں بات چیت کرنا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے کہ جب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کا دفتر کھلنے سے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔پاکستان نے اٹھائیس طالبان قیدیوں کو آزاد کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ طالبان کمانڈر ملا برادر سمیت تمام طالبان قیدیوں کو آزاد کر دے گا۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان، طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر مائل کرنے کے بدلے افغان فوج کو تربیت دینا چاہتا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں پاکستان کا پہلے سے اثرورسوخ ہے اس لیے وہ اپنے اس اثرورسوخ کو باقی رکھنا چاہتا ہے۔ اس بنا پر افغان حکومت کا یہ خيال ہے کہ پاکستان طالبان قیدیوں کو آزاد کر کے اور اسی طالبان کو افغان حکومت سے مذاکرات پر راضی کرکے اس امر کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے افغان حکومت پر دباؤ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی حکومت خاص طور پر اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ طالبان کے قریبی تعلق کی وجہ سے افغان حکومت کو تشویش ہے کہ کہیں افغان فوج میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگي سے خفیہ اطلاعات طالبان کے ہاتھ نہ لگ جائيں۔ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلے پر امریکہ کی بھی نظر ہے کیونکہ وہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان سے قابض فوجیوں کے انخلا کے بعد وہاں پر اپنے کچھ فوجی باقی رکھنا چاہتا ہے اور طالبان کے حملوں کو اپنے فوجیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا ہے۔ چونکہ امریکہ پر پاکستان پر بدستور افغانستان خاص طور پر طالبان کے بارے میں دہری پالیسی اختیار کرنے کا الزام لگا رہا ہے اس لیے ایسا نظر آتا ہے کہ شاید امریکہ بھی پاکستانی فوج کی جانب سے افغان فوج کو تربیت دینے کا مخالف ہو۔بہرحال سیاسی مبصرین کے خیال میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے اور مشترکہ سرحدوں پر سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان اور افغانستان میں عسکری اور سکیورٹی تعاون دونوں ملکوں کے درمیان اور اسی طرح علاقے میں پائیدار امن کے قیام میں مدد دے گا۔ 

.......

/169